ارمغان حجاز - رباعیاتعلامہ اقبال شاعری

مري شاخ امل کا ہے ثمر کيا

(Armaghan-e-Hijaz-09)

Rubaiyat – Meri Shakh-e-Amal Ka hai Samar Kya

(رباعیات: میری شاخ امل کا ہے ثمر کیا)

What fruit will the bough of my hope bear

مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
تری تقدیر کی مجھ کو خبر کیا

معانی: امل: آرزو، امید ۔ تقدیر: قسمت ۔
مطلب : علامہ نے یہاں ایک اصول بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ اس لیے انسان کو صرف آج کے حالات کو پیش نظر رکھ کر عمل اختیار کرنا چاہیے ۔ اس بات کو علامتی انداز میں بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ میری آرزو اور امید کے درخت کی شاخ پر پھل لگے گا بھی یا نہیں لگے گا اور اگر لگے گا تو کیسا لگے گا مجھے علم نہیں اسی طرح اے مخاطب تیری قسمت میں آگے چل کر کیا ہونے والا ہے اس کی بھی مجھے خبر نہیں ۔

————

کلی گل کی ہے محتاج کشود آج
نسیم صبحِ فردا پر نظر کیا

معانی: محتاج کشود: کھلنے کی محتاج ۔ نسیم صبح فردا: آنے والی کل کی صبح کی نرم و لطیف ہوا ۔ ثمر: پھل ۔ خبر کیا: کیا معلوم ۔
مطلب: پھول کی کلی یا غنچہ تو آج کھلنے کا محتاج ہے اسے تو آج نسیم کا جھونکا چاہیے جو اسے کھلا کر پھول بنا دے ۔ اس کی نظر آنے والے کل کی صبح پر نہیں ہے ۔ اگر آج اسے نسیم کا جھونکا میسر نہ آیا تو وہ شاخ پر مرجھا جائے گا ۔ اس میں مسلمان کو تقدیر پر بھروسہ کرنے اور آنے والی کل کی امید پر ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہنے سے روکا ہے ۔

————

Transliteration

Rubaiyat

QUATRAINS

Meri Shakh-E-Amal Ka Hai Samar Kya
Teri Taqdeer Ki Mujh Ko Khabar Kya

What fruit will the bough of my hope bear–
What do I know of your destiny?

Kali Gul Ki Hai Mohtaj-E-Kushood Aaj
Naseem-E-Subah-E-Farada Par Nazar Kya !

The rose‐bud needs to open today–
Why wait for tomorrow’s morning breeze?

————

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button