ارمغان حجاز - رباعیاتعلامہ اقبال شاعری

خرد کی تنگ دامانی سے فرياد

(Armaghan-e-Hijaz-13)

Khirad Ki Tang Daamani Se Faryad

(خرد کی تنگ دامانی سے فریاد)

Rescue me please from wisdom’s narrowness

 

خرد کی تنگ دامانی سے فریاد
تجلی کی فراوانی سے فریاد

معانی: خرد: عقل ۔ تنگ دامانی: جھولی کا تنگ ہونا ۔
مطلب: میں عقل کی جھولی کے تنگ ہونے پر دہائی دے رہا ہوں کہ وہ اس میں خداتعالیٰ کے ان جلووں کو نہیں سمیٹ سکتی جو رنگارنگ صورتوں میں کائنات میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں ۔ صوفیا کے نزدیک کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے اسما اور صفات کا مظہر ہے ۔ ہر ذرہ میں اس کی جلوہ نمائی ہے ۔ دہائی ہے کہ ان سب جلووں کو دیکھنا عقل کے بس کی بات نہیں ہے ۔ یہ عقل کی تنگ نظری کا نتیجہ ہے کہ وہ کائنات میں غیر اللہ کے جلووں کو تو دیکھ لیتی ہے لیکن اللہ کے جلووں کا تماشا نہیں کر سکتی ۔

——————

گوارا ہے اسے نظارہَ غیر
نگہ کی نامسلمانی سے فریاد

مطلب: یہ نگاہ کے نامسلمان ہونے کی دلیل ہے اگر عقل کی نگاہ مسلما ن ہوتی تو وہ ہر شے میں خدا کا جلوہ دیکھ لیتی ۔ اور غیر اللہ کے نظارے سے بچتی ۔ ایسی نگاہ سے جو غیر اللہ کو تو دیکھ لے اور اللہ کو نہ دیکھ پائے فریاد ہے کیونکہ ایسی نگاہ کافر کی تو ہو سکتی ہے مسلمان کی نہیں ۔ کافر کائنات کے ظاہری جلووں میں گم رہتا ہے جب کہ مسلمان ان جلووں کے پیچھے ذات باری تعالیٰ کے اسما و صفات کی تجلیات کا نظارہ کرتا ہے اور ان کے ذریعے ذات سے تعلق پیدا کر لیتا ہے

——————

Transliteration

Khirad Ki Tang Damaani Se Faryad
Tajali Ki Farawani Se Faryad

Rescue me please from wisdom’s narrowness
And from excessive light, its plentifulness.

Gawara Hai Isse Nazara’ay Ghair
Nigah Ki Na-Musalmani Se Faryad !

It deigns to cast looks at others, that is,
The eye of Muslims’ shamelessness!

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button