بانگ درا (حصہ سوم)علامہ اقبال شاعری

نمود صبح

ہو رہی ہے زير دامان افق سے آشکار
صبح يعنی دختر دوشيزہ ليل و نہار
پا چکا فرصت درود فصل انجم سے سپہر
کشت خاور ميں ہوا ہے آفتاب آئينہ کار
آسماں نے آمد خورشيد کی پا کر خبر
محمل پرواز شب باندھا سر دوش غبار
شعلۂ خورشيد گويا حاصل اس کھيتی کا ہے
بوئے تھے دہقان گردوں نے جو تاروں کے شرار
ہے رواں نجم سحر ، جيسے عبادت خانے سے
سب سے پيچھے جائے کوئی عابد شب زندہ دار
کيا سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ کوئی
کھينچتا ہو ميان کی ظلمت سے تيغ آب دار
مطلع خورشيد ميں مضمر ہے يوں مضمون صبح
جيسے خلوت گاہ مينا ميں شراب خوش گوار
ہے تہ دامان باد اختلاط انگيز صبح
شورش ناقوس ، آواز اذاں سے ہمکنار

جاگے کوئل کی اذاں سے طائران نغمہ سنج
ہے ترنم ريز قانون سحر کا تار تار

 

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button