بانگ درا (حصہ سوم)علامہ اقبال شاعری

دريوزہ خلافت


اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی

نہيں تجھ کو تاريخ سے آگہی کيا
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی

خريديں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی

”مرا از شکستن چناں عار نايد
کہ از ديگراں خواستن موميائی

———————-

Transliteration

Daryooza-e-Khilafat

Agar Mulk Hathon Se Jata Hai, Jaye
Tu Ahkam-e-Haq Se Na Kar Be-Wafai

Nahin Tujh Ko Tareekh Se Aghi Kya
Khilafat Ki Karne Laga Tu Gadai

Khareedain Na Jis Ko Hum Apne Lahoo Se
Musalman Ko Hai Nanang Woh Padshai

“Mera Az Shakistan Chuna Aar Nayed
Ke Az Deegaran Khawastan Moumiyai”

——————-

Begging For The Caliphate

If the territory is being lost let it be lost
You should not be disloyal to God’s commands

Do you not have knowledge of history?
You have started begging for the Khilafah!

If we do not purchase with our own blood
Such sovereignty is a disgrace to the Muslim!

“I do not feel as much ashamed of being broken down
As in asking others for mumiya’i for my treatment.”

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button